بیروت،13مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حال ہی میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے شام کی سرحد سے متصل مشرقی لبنان کے علاقوں سے اپنے جنگجو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔عسکری شعبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقی لبنان سے انخلاء کے اعلان کے پس پردہ حزب اللہ کی شام میں جنگجوؤں کی تعداد بڑھانا ہوسکتی ہے۔ حزب اللہ شام میں اپنے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اس نے مشرقی لبنان میں موجود اپنے یونٹ ختم کیے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان زبدانی اور مضایا کے علاقوں کے باشندوں کی منتقلی کا معاہدہ طے پایا ہے تب سے حزب اللہ شام میں بشارالاسد فوج کی عمل داری میں آنے والے قصبوں اور شہروں میں اپنے جنگجوؤں کی تعداد بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کی سرحد سے متصل مشرقی لبنان سے اپنے جنگجوؤں کی واپسی کا مقصد حزب اللہ کا شام کی جنگ سے نکلنا نہیں بلکہ شام میں اپنا اثرو رسوخ مزید بڑھانا ہے۔
مبصرین کے مطابق جب سے شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’چار دیہاتوں میں آبادی کی نقل مکانی‘ کا معاہدہ طے پایا ہے اس کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ حزب اللہ مشرقی لبنان سے اپنے جنگجو شام بلائے گی۔ مشرقی لبنان کے سرحدی علاقوں عرسال اور راس بعبلک سمیت دیگر مقامات پر لبنانی فوج تعینات کی جائے گی۔ اس کے مقابلے میں شام کے اندر حزب اللہ کے جنگجو اور شامی فوج کا کنٹرول قائم کیا جائے گا۔حزب اللہ کی جانب سے مشرقی لبنان سے اپنے جنگجو واپس بلانے کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے لبنانی حکومت اور فوج پر زور دیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو اسلحہ کے حصول سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ نیز حزب اللہ کو ملک کے اندر عسکری بالادستی کے بل بوتے پراپنا اثر رسوخ اور اتھارٹی قائم کرنے سے روکیں۔یہاں یہ امر واضح رہے کہ حزب اللہ نے شام میں بشارالاسد کے دفاع کی جنگ میں کود کر خود کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا ہے۔